حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کی وزارت جنگ نے ایک خوفناک رپورٹ جاری کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ اسرائیلی فوج میں خودکشی کی شرح میں تاریخی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سالوں کے دوران غزہ اور لبنان میں جاری جنگوں کی وجہ سے فوجیوں، خاص طور پر ریزرو فوجیوں میں نفسیاتی اور ذہنی مسائل کی ایک لہر دوڑ گئی ہے، جس کا نتیجہ خودکشی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
روزنامہ جروزلم پوسٹ کے مطابق، اسرائیلی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوجی افسران نے ان مسائل کی طرف فوری توجہ نہ دی تو آنے والے برسوں میں حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 74 فوجیوں نے خودکشی کر کے اپنی جان لے لی ہے جبکہ 279 نے خودکشی کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جنگ میں زخمی ہونے والے 60 فیصد فوجیوں کو نفسیاتی مسائل کا بھی سامنا ہے۔ جنگ سے واپس آنے والے فوجیوں کے خاندانوں نے شدید گھبراہٹ، ڈپریشن، خوابوں میں خوفناک منظر اور نیند کی خرابی جیسے علامات کی اطلاع دی ہے۔ اسرائیل کے ادارے "مکابی" کے مطابق، غزہ اور دیگر جنگی علاقوں سے واپس آنے والے 39 فیصد فوجی ابھی تک نفسیاتی مشورہ اور علاج کی فراہمی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔









آپ کا تبصرہ